چلتی ٹرین کے آگے سیلفی لیتے ہوئے کیا ہوا

وہ جو کہتے ہیں کہ ‘انٹرنیٹ پر دیکھنے والی چیز پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے’ شاید تھیک کہتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کافی چیزیں دیکھی کہتے ہیں کہ ‘انٹرنیٹ پر دیکھنے والی چیز پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے’ شاید تھیک کہتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کافی چیزیں دیکھی جاتی ہیں جن پر یقین کرنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوتا بلکل اسی طرح حال ہی میں حیدرآباد میں ہونے والے ایک حادثے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل کی گئی تھی جس کی حقیقت منظر عام پر آگئی۔

loading...

حادثے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک شہری ریل وے پر کھڑے چلتی ہوئی ٹرین کےساتھ سیلفی ویڈیو بنارہا تھا جس کے بعد ٹرین اسے کچل کر لے گئی۔اس حادثے کے بعد انٹرنیٹ پر بہت سے لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا جبکہ کچھ شہریوں نے بتایا کہ زخمی ہونے کی وجہ سے شہری کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔اب حال ہی میں انڈیاز ٹوڈے کے ایک صحافی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہی شہری اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک ویڈیو بنارہا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حادثے کی وہ ویڈیو ایک مذاق تھا تاکہ لوگوں کو زندگی کی اہمیت کے بارے میں بتایا جاسکے۔

البتہ ایک اور صحافی نے یہ بھی بتایا کہ اس شہری کا نام ‘شیوا’ ہے اور حادثے کی وہ جعلی ویڈیو اس نے اپنے دوستوں کے ہمراہ بنائی تھی۔ شیوا نامی یہ شخص ماداپور کے ایک جم میں کام کرتا تھا لیکن اس حادثے کے بعد شہری فرار ہوچکا ہے۔

جب لوگوں کو اس حادثے کے پیچھے چھپی اس حقیقت کا پتا لگا تو انہوں نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے شیوا کو تنقید کی نظر سے دیکھا۔ جبکہ شیوا کا کہنا ہے کہ یہ مذاق میں نے اس لئے کیا تاکہ لوگوں کو زندگی کی اہمیت کا احساس ہوسکے

loading...

Leave a Comment